نئی دہلی، 27 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دو سال پہلے مرکز کی نریندر مودی حکومت کی طرف سے کی گئی نوٹ بندي پر منگل کو اپوزیشن نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔اپوزیشن کی کئی جماعتوں نے نوٹ بندي اب تک کا سب سے بڑا گھوٹالہ بتایا اور ایک ویڈیو بھی جاری کیا۔اپوزیشن کی طرف سے جاری ویڈیو میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ 31 دسمبر 2016 کے بعد بھی بی جے پی کے کئی کارکنوں کی مدد سے نوٹ بدلے جا رہے تھے۔اپوزیشن رہنماؤں کی اس پریس کانفرنس میں کانگریس کے کپل سبل، رندیپ سرجیوالا، احمد پٹیل، غلام نبی آزاد، ملکا ارجن کھڑگے، آر جے ڈی کے منوج جھا، شرد یادو شامل رہے۔یہاں لیڈران کی جانب سے ایک ویڈیو میں دکھایا گیا۔کپل سبل نے کہا کہ کچھ چوکیداروں نے ملک کے ساتھ غداری کی ہے اور عام آدمی کی جیب سے پیسہ چھین لیا ہے۔پریس کانفرنس میں ایک ویڈیو میں دکھایا گیا جس میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ صحافیوں نے مل کر نوٹ بندي پر ایک خصوصی جانچ پڑتال کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نوٹ بندي کی وجہ سے ملک کی جی ڈی پی کم ہو گئی، کسانوں کو نقصان ہوا، چھوٹے کاروباریوں کو نقصان جھیلنا پڑا۔ویڈیو میں دکھایا گیا کہ 5 کروڑ کے 500 کے نوٹ آئے اور 3 کروڑ کے 2000 کے نوٹ دے دیے گئے، یہ تمام 31 دسمبر 2016 کے بعد ہوا ہے۔اگرچہ، کپل سبل نے آخر میں کہا کہ وہ اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں، نہ ہی وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ویڈیو ان کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیو ان کو ایک ویب سائٹ سے ملی ہے، جس میں کچھ شاندار بات سامنے آئی ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ اس ویڈیو میں جو دکھایا گیا ہے، اس کی جانچ ہو۔
آپ کو بتا دیں کہ مرکزی حکومت کی جانب سے 8 نومبر، 2016 کو 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو بند کر دیا گیا تھا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ہی نوٹ بندي کا اعلان کیا تھا،تبھی سے اپوزیشن پارٹیاں اس کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں۔